’پہلی سعودی فٹبال امپائر بننے کی خواہاں ہوں‘

’پہلی سعودی فٹبال امپائر بننے کی خواہاں ہوں‘

فٹبال کی کھلاڑی اور سعودی خاتون امپائر شام الغامدی کا کہنا ہے کہ ’بچپن سے یہ سنتی آئی تھی کہ لڑکیوں کو فٹبال کی کوئی سمجھ نہیں ہوتی، یہ کھیل صرف مردوں کے لیے ہے، میری خواہش ہے کہ سعودی عرب سے اس تاثر کو مکمل طور پر ختم کر کے فٹبال کو لڑکیوں میں ہر سطح پر عام کروں۔‘
نجی ٹی وی چینل ’ایس بی سی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے خاتون فٹبال امپائر شام الغامدی کا کہنا تھا کہ ’عالمی سطح پر پہلی سعودی خاتون امپائر بننے کے لیے کوشاں ہوں، مجھے یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن میری لگن اورمحنت رنگ لائے گی اور میں فٹبال کے عالمی مقابلوں میں امپائرنگ کرنے والی پہلی سعودی خاتون ہوں گی۔‘
الغامدی کا کہنا تھا کہ بچپن سے ہی مجھے فٹبال سے غیر معمولی لگاؤ تھا، گھر میں جب بھی میچ ہوتا تو میں بھائیوں کے ساتھ مل کر بڑے شوق سے میچ دیکھا کرتی تھی ۔مجھے یاد نہیں کہ میں نے کوئی میچ چھوڑا ہو۔
انٹرویو میں الغامدی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘ فٹبال کے کھیل کا شوق تومجھے بچپن سے ہی تھا مجھے اچھی طرح آج بھی اپنا وہ دور یاد ہے جب میچ دیکھتے ہوئے یہ جملے میری سماعت سے ٹکراتے تھے کہ ’لڑکیاں اس کھیل کو کیا سمجھتی ہیں، تم لڑکی ہواپنا وقت برباد نہ کرو، یہ کھیل لڑکوں کا ہے تمہارا اس سے کیا تعلق۔‘
ان جملوں نے میرے حوصلے پست کرنے کے بجائے مجھے تقویت دی اور میں کہا کرتی تھی ’لڑکے اور لڑکی میں فرق کیسا، جب دیگر ممالک میں لڑکیاں ہر وہ کام کرسکتی ہیں جو لڑکے کرتے ہیں تو ہم سعودی لڑکیاں کیوں کسی سے پیچھے رہیں۔‘
الغامدی کا کہنا تھا کہ ’بچپن سے ہی میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ مجھے ایک نہ ایک دن یہ ثابت کرنا ہے کہ سعودی لڑکیاں بھی کسی سے کم نہیں، میں نے اپنی ہمت کو پست نہ ہونے دیا اور ہر منفی بات کو مثبت انداز میں لیا جس سے میرے حوصلے مزید مستحکم ہوئے اور مجھے اس فیلڈ میں آنے میں بہت آسانی ہوئی۔‘
’فٹبال کے بارے میں میرے شوق میں دن بہ دن اضافہ ہوتا رہا میں نے کبھی لوگوں کی باتوں پر اپنے شوق کو ختم نہیں ہونے دیا اور نہ ہی اپنا ارادہ ملتوی کیا بلکہ ہر مخالفت نے میری ہمت اور لگن میں اضافہ ہی کیا۔‘
جب میں نے اپنے اردگرد تلاش کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میں اپنے شوق کے ساتھ تنہا نہیں ہوں بلکہ میری ہم خیال کافی ہیں جو فٹبال کے کھیل سے دلچسپی ہی نہیں رکھتیں بلکہ اس کھیل میں نام بھی پیدا کرنے کی خواہاں ہیں۔
وہ جو کہتے ہیں کہ لگن سچی ہوتو منزل آسان ہو جاتی ہے کے مصداق مجھے بھی میری ہم خیال ملتی گئیں۔ امپائر بننے کے سوال پر شام الغامدی کا کہنا تھا کہ ’میں ہمیشہ منفرد رہنے کی خواہاں ہوں اور مشکل کام مجھے زیادہ اپنی جانب راغب کرتے ہیں، فٹبال کھیلنا اہم نہیں بلکہ فٹبال کے قوانین کی باریکیوں کو سمجھنا اور ان پر عمل کروانا انتہائی اہم بلکہ امپائر بننا انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے یہ سوچ کر میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے ’امپائر‘ بننا چاہیے۔‘
فٹبال کے قوانین کو جاننے کے لیے میں نے ہمیشہ سے بہت محنت کی، ابتدا میں ذاتی طور پر کسی رہنمائی کے بغیر میں نے فیفا کے قوانین کا مطالعہ کیا تاکہ اس کھیل کی باریکیوں کو اچھی طرح سمجھ سکوں۔ میرا ہدف محض امپائر بننا ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر سعودی عرب کی نمائندگی کرنا ہے اور اپنے ہدف کے حصو ل کے لیے میں ہر طرح سے کوشاں ہوں۔
الغامدی کا کہنا تھا کہ ’مجھے سعودی فٹبال یونین اور اماراتی فٹبال یونین کی جانب سے دعوت ملی ہے کہ فیفا کے تحت ہونے والے امپائرنگ ٹرینگ کورس میں شرکت کروں، یہ میرے لیے بہت بڑی کامیابی ہے جو مجھے میرے ہدف کے مزید قریب کر دے گی اور ایک دن آئے گا کہ میں فٹبال کے عالمی مقابلوں میں امپائر کے طور پر سعودی عرب کی نمائندگی کروں گی۔‘
واضح رہے 22 سالہ شام الغامدی سعودی خاتون ہیں جو فٹبال سے غیر معمولی رغبت رکھتی ہیں۔ انہوں نے فٹبال میں امپائر بننے کو منتخب کیا۔ سعودی خواتین کے مقامی فٹبال کلب میں کھیل سے آغاز کیا مگر جلد ہی وہ امپائرنگ کی جانب چلی گئیں۔ ان کی خواہش ہے کہ عالمی سطح پر چیمپیئن لیگ کے لیے پہلی سعودی امپائر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

Related posts

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے