اختر وقار عظیم کی کتاب اور کھیل کی دنیا کے واقعات

اختر وقار عظیم کی کتاب اور کھیل کی دنیا کے واقعات

اختر وقار عظیم صاحب کی کتاب ”ہم بھی وہیں موجود تھے“ ہاتھ لگی، کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ ایک ہی نشست میں پڑھے بغیر رہا نہ گیا۔ پاکستان ٹیلی وژن کے مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے اختر وقار عظیم کا واسطہ ہر شعبہ زندگی کے لوگوں سے پڑا، جس کا ذکر کتاب میں واقعات کے صورت میں باطریق احسن کیا گیا ہے۔ کھیل کی دنیا سے وابستگی کے دور میں درپیش واقعات پُر لطف ہیں۔ اختر وقار عظیم لکھتے ہیں ضیاء الحق دور میں جنرل مجیب الرحمن زیادہ وقت وزارتِ اطلاعات کے نگران رہے۔

وہ نا اہل، بے وقوف اور ناپسند آدمی کو عموماً ”معصوم“ کہہ دیتے تھے۔ اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش آیا۔ بھٹو صاحب کو پھانسی دی جانے والی تھی، خیال تھا کہ لوگ اس فیصلے پر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ جنرل مجیب کی رائے تھی کہ اگر بھارت اور پاکستان کے میچوں کے دوران بھٹو کو پھانسی دی جائے تو ردِ عمل شاید زیادہ نہ ہو۔ چنانچہ اُن کی رائے کو ضمانت جانتے ہوئے پاکستان کی ٹیم کو بھارت بھیجا گیا اور بھارت کی ٹیم پاکستان آئی۔

اس سیریز کے کچھ میچ دیکھنے جنرل مجیب بھی بھارت گئے تھے۔ ایک ٹیسٹ میچ میں وسیم راجہ نے سنچری بنائی۔ جنرل صاحب انہیں مبارک باد دینے پویلین گئے۔ وسیم راجہ ایک کونے میں لیٹے ہوئے تھے۔ ٹیم کے مینیجر نے اُن سے جنرل صاحب کا تعارف کرایا۔ راجہ بدستور لیٹے رہے۔ جنرل نے صدر کی طرف سے انہیں مبارک باد کا پیغام پہنچایا تو وسیم نے لیٹے لیٹے جواب دیا ”ان سے میر ی بات ہو چکی ہے“، جنرل صاحب خاموشی سے واپس چل دیے، کہا تو صرف اتنا ”بہت بڑا کھلاڑی ہے، لیکن معصوم ہے“۔

لکھتے ہیں ایک مرتبہ علی محمد خواجہ، جن کی مختلف کھیلوں کے منتظم کی حیثیت سے بہت خدمات ہیں، ہمارے لیے کبڈی کے ایک میچ پر رواں تبصرہ نشر کر رہے تھے۔ ابھی وہ کھلاڑیوں کا تعارف کرانے کے بعد کچھ قاعدے قوانین بتا رہے تھے کہ مہمان خصوصی آگئے جن کا استقبال خواجہ صاحب کو کرنا تھا لیکن کمنٹری کی مجبوری میں وہ ہماری دسترس میں تھے۔ مہمان خصوصی کو دوسرے لوگوں نے ہار تو پہنا دیے لیکن کبوتر اڑانا بھول گئے جو اس موقع پر آزاد کیے جانے تھے۔ اب خواجہ صاحب کمنٹری باکس سے اپنے ساتھیوں کو اشارے دے رہے ہیں کہ کبوتر اڑاؤ لیکن کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ آخر مجبوراً انہیں چیخ کر سنانا پڑا ”اوئے کبوتر اُڑاؤ کرسی کے نیچے پڑ ے ہیں“، یہ سب کچھ ٹی وی پر نشر ہوگیا۔

ہاکی کا میچ زور و شور سے جاری تھا، منیر ڈار بھاری آواز میں کمنٹری کر رہے تھے، کھیل پر ان کا تبصرہ بھی جاری تھا۔ کمنٹری کیونکہ کھیل کے میدان کے بالکل قریب سے ہو رہی تھی اس لیے مبصروں کی آواز اور مشورے کھلاڑیوں تک بھی پہنچ رہے تھے۔ منیر ڈار بار بار منظور جونیئر کو تنبیہ کر رہے تھے کہ انہیں پیچھے آکر گیند لینا چاہیے۔ منظور سب کچھ سن رہے تھے اور IRRITATE بھی ہورہے تھے۔ یوں تو وہ کم گو اور مزاجاًصلح کُل آدمی ہیں لیکن جب میچ میں ہاف ٹائم ہوا تو انہوں نے ہاکی لاکر منیر ڈار کے سامنے پھینک دی اور کہا: ”چاچا آؤ خود کھیل لو“۔

ایک مرتبہ حنیف محمد کے بیٹے شعیب محمد بیٹنگ کر رہے تھے، ایک گیند کو انہوں نے کچھ اونچا کھیل دیا۔ حنیف محمد دیکھ رہے تھے، انہوں نے بے ساختہ کہا: ”کیا کر رہا ہے، دیکھ کے کھیل، یہ کرے گا تو بھوکا مر جائے گا“۔

اختر وقار عظیم لکھتے ہیں پاکستانی کرکٹ ٹیم بھارت ٹیسٹ میچ کھیلنے گئی۔ کرکٹ سے بے انتہا دلچسپی رکھنے والے دلیپ کمار نے دونوں ٹیموں کے لیے شاندار ڈنر کا اہتمام کیا۔ جہاں بھارت کے کئی اداکار اور اداکارائیں بھی موجود تھیں۔ ہر کھلاڑی کسی نہ کسی اداکار یا اداکارہ سے محو گفتگو تھا۔ ماجد خان چُپ چاپ ادھر ادھر ٹہل رہے تھے۔ ایک تو وہ تنہائی پسند ہیں، دوسری مشکل یہ تھی کہ انہوں نے بھارتی فلمیں دیکھ نہیں رکھی تھیں اس لیے کسی کو پہچانتے نہیں تھے۔

ایک سانولی سلونی سے لڑکی کو الگ بیٹھے دیکھا تو اس سے بات چیت کرنے لگے۔ کرکٹ، سیاست اور صحافت پر بات چیت ہوئی۔ کچھ دیر بعد ماجد کو خیال آیا کہ خاتون سے تعارف تو ہو ا ہی نہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا آپ کا تعلق بھی فلم انڈسٹری سے ہے؟ جواب ملا: ”جی ہاں، چھو ٹی موٹی ادکارہ ہوں۔ سمیتا پاٹیل میر ا نام ہے“۔ بعد میں ہم نے ماجد خان کو بتایا کہ سمیتا پاٹیل بھارت کی بہت مشہور اور مقبول ہیروئین ہیں تو بہت ہنسے۔ اس کے بعد اس محفل میں کسی سے گفتگو نہیں کی۔

اختر وقار عظیم معروف کرکٹر حنیف محمد کے بارے میں لکھتے ہیں، حنیف محمد کی مہارت کی وجہ سے اُن کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی۔ کبھی کبھی وہ اس رائے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دلچسپ صورت حال پیدا کردیتے تھے۔ ایسے ہی ایک موقع کی روداد ہمارے دوست صلاح الدین صلو میاں سناتے ہیں۔ حنیف کی کپتانی میں ایک کھلاری آف اسپین گیند کرا رہا تھا۔ اسے دو چو کے لگے تو حنیف نے پاس جا کر ڈھارس بندھائی اور کہا ”گھبراؤ نہیں، انشا اللہ اگلا اوور ٹھیک ہوگا“۔

دوسرا اوور بھی اچھا نہ ہوا تو حنیف بولر کے پاس آئے اور کہا ”ذرا اپنے جوتے کا تلوا دکھاؤ“ اس نے کپتان کے کہنے پر تعمیل کی۔ حنیف نے تلا دیکھ کر سنجیدگی سے کہا: ”ارے لیگ اسپنر کے جوتے پہن کر آف اسپن کرا رہے ہو، چوکے تو لگیں گے“۔ کیونکہ یہ بات حنیف محمد جیسے ماہر نے کہی تھی اس لیے بے چارے بولر نے اسے مزید سنجیدگی سے لیا۔ وہ شام کو میچ کے بعد لڑنے کے لیے جوتے والے کے پاس پہنچ گیا، وہاں ان کے ساتھ کیا بیتی ہوگی اس کا اندازہ آپ کرسکتے ہیں!

وقا ر عظیم صاحب لکھتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے جملوں کی کھیل کے میدان اور کھلاڑیوں کے لیے بہت اہمیت ہوتی ہے۔ یہ کہے گئے جملے کھیل کا پانسہ پلٹ دینے اور بگڑی صورتوں کو مثبت شکل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی حوالے سے مصنف لکھتے ہیں :بھارت کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی، دونوں ملکوں کے درمیان مدتوں بعد پاکستان میں سیریز کھیلی جارہی تھی۔ پاکستان ٹیلی وژن نے اس سیریز کے میچ دکھانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے تھے اور ماہرانہ تبصروں کے لیے بھارت سے لالہ امرناتھ اور بشن سنگھ بیدی کو مدعو کر رکھا تھا۔

حیدر آباد میں ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا تھا۔ لالہ اور بیدی اپنے حصے کا تبصرہ کرنے کے بعد عموماً کمنٹری باکس سے اٹھ کر پویلین یا پریس باکس چلے جاتے تھے جو کچھ فاصلے پر تھے، وہاں پہنچنے کے لیے لوگوں کے سامنے سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا، ان میں سے زیادہ لڑکے تھے تو انہیں شرارت سوجھی، وہ بہت سے پانی بھرے غبارے لے آئے جو بھی سامنے سے گزرتا وہ تاک کر اس کا نشانہ لیتے۔ نشانہ صحیح لگے یا غبارہ زمین پر پھٹ جائے، دونوں صورتوں میں کپڑے بھیگ جاتے لالہ امرناتھ نشانہ بنتے تو غصے کا اظہار کرتے، لڑکوں کو کھیل مل جاتا وہ لالہ پر غباروں کی بوچھاڑ کر دیتے۔ بیدی کے ساتھ ایسا ہوا تو انہوں نے ہنسنا شروع کر دیا اور ہنستے ہنستے کہا: ”تم پر ضیاء الحق اور ماشل لاء ہمیشہ مسلط رہنا چاہے“ لڑکے بھی ہنس دیے۔ یوں بیدی کے ایک جملے کی وجہ سے غباروں کا یہ کھیل ختم ہوگیا۔

ایک مرتبہ ایک جملے کی وجہ سے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ بھی کچھ دیر کے لیے رُک گیا تھا۔ ہوا یوں کہ ڈینس کامپٹن بیٹنگ کر رہے تھے اور کسی طرح آؤٹ نہیں ہو رہے تھے۔ مقصود احمد سلپ میں فیلڈنگ کر رہے تھے اور محمود حسین بولنگ۔ غصے میں مقصود نے محمود کو آواز دی کہ ”اس کا سر پھاڑ دے“۔ کامپٹن بلا زمین پر پھینک کر کھڑے ہوگئے اور ایمپائر سے شکایت کر دی کہ ”مقصود اور محمود میرے خلاف منفی بولنگ کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں روکا جائے“۔ اصل میں کامپٹن کافی عرصہ ہندوستان میں رہے تھے اور اردو کے ساتھ مقامی زبانیں بھی سمجھتے تھے۔ یوں انہوں نے یہ جملہ سن کر کھیل رکوا دیا۔

دسمبر 2012 ء میں قطر میں دوسرا ایشیائی چیمپین ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کھیلا جارہا تھا۔ بھارت اور ملائیشیا کے درمیان میچ تھا۔ پاکستان کو فائنل سے دور رکھنے کے لیے بہتر ٹیم ہونے کے باوجود بھارت نے ملا ئیشیا سے ہارنا شروع کردیا۔ بھارت کی ٹیم میں آدھے سے زیادہ کھلاڑی سکھ تھے۔ پاکستانی ٹیم کے مینیجر اختر رسول نے انہیں متوجہ کر کے پنجابی میں آواز لگائی: ”سرداروکچھ اپنی پگ دا خیال کرو“۔ اس جملے نے کھیل بدل دیا، اسی بھارت نے ملائشیا پر گولوں کی بارش کردی۔ فائنل میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوا جو پاکستان نے جیتا۔ یوں اختر رسول کے ایک جملے نے پاکستان کو ایشیائی چیمپیئن بنا دیا!

واقعات کا دلچسپ تسلسل برقرار رکھتے ہوئے لکھتے ہیں : ”بھارت کے کھلاڑی دلیپ دوشی کی آپ بیتی“ اسپین پنچ ”کے نام سے شائع ہوتی ہے۔ کتاب میں ساتھی کھلاڑیوں کا بھی ذکر کیا، اُن میں کچھ کے بارے میں خاصی شدت سے تنقید بھی کی گئی ہے، جن میں نمایاں سنیل گواسکر ہیں۔ گواسکر سے ایک دن شارجہ میں آصف اقبال کے کمرے میں ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھ لیا:“ دلیپ دوشی کو آپ نے اتنا ناراض کیوں کر دیا ”گواسکر مسکرائے اور جواب دیا“ میاں داد کی وجہ سے ”۔

جواب سن کر آصف نے قہقہہ لگایا اور پوچھا ”میاں داد کی وجہ سے، وہ کیسے؟ “ جواب میں گواسکر نے کہا: تمہاری اور ہماری ٹیموں کے درمیان میچ کھیلا جارہا تھا۔ میں سلپ میں فیلڈنگ کر رہا تھا۔ دوشی میاں داد کو گیند کرارہے تھے۔ دوشی گیند کرتے، میاں داد آگے قدم نکال کر کھیلتے اور ساتھ ہی دوشی سے پوچھ لیتے ”تیرا لوم نمبر کیا ہے؟ “ کئی مرتبہ ایسا ہوا تو دوشی نے جھنجلا کر گیند میاں داد کے کھینچ ماری، میاں داد نے بلا آگے کر دیا اور بچ گئے ورنہ چوٹ لگ جاتی۔

اس پر میاں داد نے کہا ”مذاق میں غصہ کھاتا ہے“، دوشی نے پوچھا ”تو بار بار مجھے کیوں کہتا ہے، میرا روم نمبر کیا ہے؟ “، میاں داد کا جواب تھا: ”اس لیے کہ میرے کو تیرے کمرے میں چھکا مارنا ہے“، یہ سُن کر میں اور وکٹ کیپر کرمانی ہنس دیے کیونکہ ہم جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے وہ گراؤنڈ سے دس میل دور تھا۔ بس یہ ہنسی اور میاں داد کا جملہ ہمارے جھگڑے کا باعث بن گیا، کیونکہ دوشی کا خیال تھا کہ میں اور کرمانی، میاں داد کے ساتھ مل کر اُس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

Related posts

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے