تازہ ترین

لیورپول فٹبال کلب

لیورپول فٹبال کلب

احمد خلیق

طویل انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ لیورپول فٹ بال کلب دس پندرہ سال بعد نہیں، بیس پچیس سال بعد بھی نہیں، بلکہ پورے تیس سال بعد انگلش فٹبال کی سب سے اہم ‘پریمیئر لیگ’ جیتنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ 25 جون کو جب دوسرے نمبر پر موجود مانچسٹر سٹی کو چیلسی کے ہاتھوں دو- ایک سے شکست ہوئی تو لیورپول پوائنٹس کے زیادہ فرق کی وجہ سے چیمپیئن قرار پایا (لیور پول کے چھیاسی جبکہ مانچسٹر سٹی کے تریسٹھ پوائنٹس تھے اور پیچھے سات مقابلے رہ گئے تھے)۔

چیمپئین قرار پائے جانے کے ساتھ ہی مداحوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور لیورپول اسٹیڈیم ‘اینفیلڈ’ کے گرد جمع ہونے لگی جہاں پھر رات گئے تک جشن منایا گیا۔ حالانکہ شہری انتظمایہ کی طرف سے کورونا کے خطرے کی وجہ سے کسی قسم کی بھیڑ بھاڑ اور مجمع سے منع کیا گیا تھا، مگر یہ اعزاز اور خوشخبری ایسی تھی کہ ہزاروں مداحوں کا باہر نکلنا فطری تھا۔ جی ہاں! کیونکہ ایک طرح سے یہ لیورپول کا پہلا پریمیئر لیگ ٹائٹل تھا کیونکہ 1990ء کے بعد جب ‘قحط سالی’ کا آغاز ہوا تب تک ‘فٹبال فرسٹ ڈویژن لیگ’ کا نام بدل کر ‘انگلش پریمیئر لیگ’ نہیں رکھا گیا تھا۔ یہ تبدیلی 1992ء میں عمل میں آئی۔ 1990ء تک لیورپول ریکارڈ اٹھارہ لیگ ٹائٹلز اپنے نام کر چکا تھا، دوسرے نمبر پر ایورٹن اور آرسنل اس سے نو ٹائٹلز پیچھے تھے، جبکہ مانچسٹر یونائیٹڈ نے صرف سات ٹائٹلز جیت رکھے تھے۔ اگلے تئیس سالوں میں سر ایلکس فرگوسن کے یونائیٹڈ نے حیرت انگیز طور پر تیرہ ٹائٹلز جیتے اور لیورپول کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اِس وقت انگلش پریمیئر لیگ میں مانچسٹر یونائیٹڈ بیس ٹائٹلز کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ 2013ء میں جب یونائیٹڈ نے اپنا آخری بیسواں ٹائٹل جیتا اور اس کے ساتھ ہی سر الیکس فرگوسن ریٹائر ہو گئے، تب تک لیورپول کے حالات سازگار نہیں تھے۔ اُس وقت یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آیا لیورپول پھر کبھی لیگ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہو سکے گا؟، اگر ہو سکے گا تو کیا یونائیٹڈ کو پیچھے چھوڑ پائے گا؟ تین دہائیوں بعد 2020ء میں پہلے سوال کا مثبت جواب تو مل چکا ہے، کیا دوسرا بھی ممکن ہو پائے گا یا نہیں، اس کے لیے ہمیں آنے والے سیزنز پر نظر رکھنا ہو گی۔ مگر ان سوالوں سے اہم سوال یہ ہے کہ تیس سالوں بعد لیورپول پریمیئر لیگ جیتنے میں کیسے کامیاب ہوا؟ ذیل میں ان عوامل اور کرداروں کا احاطہ کیا جائے گا جو جیت میں ممد و معاون ثابت ہوئے۔ لیکن ان سے پہلے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ کلب کی تاریخ، اہم شخصیات اور واقعات پر روشنی ڈال لی جائے۔

لیورپول — تاریخ

قیام اور اولین کامیابیاں

لیورپول فٹبال کلب کا قیام 1892ء میں عمل پذیر ہوا۔ اس سے قبل لیورپول کا اسٹیڈیم اینفیلڈ ‘ایورٹن فٹبال کلب’ کا ہوم گراؤنڈ تھا۔ 1892ء میں ایورٹن کلب کی انتظمایہ اور اینفیلڈ کے مالک ‘جان ہولڈنگ’ کے درمیان ہونے والے تنازعے کے سبب سے ایورٹن ‘گوڈیسن پارک’ کی طرف منتقل ہو گیا، اور یوں جان ہولڈنگ نے ایک نئے کلب کی بنیاد رکھی جسے ‘لیورپول فٹبال کلب’ کا نام دیا گیا۔ لیورپول نے اپنا پہلا میچ 1892ء میں ہی کھیلا، اور پھر 1901ء میں پہلا لیگ ٹائٹل اپنے نام کیا۔ 1906ء میں جب لیورپول دوسرا ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوا تو اس موقع پر نئے بنائے گئے اسٹینڈ کا نام ‘سپیون کاپ’ (Spion Kop) رکھا گیا۔ انگلش فٹبال لیگ میں کئی دوسرے کلبوں کے اسٹیندز کو بھی ‘کاپ’ کا نام دیا گیا ہے، لیکن لیورپول کا یہ اسٹینڈ اس لحاظ سے زیادہ مشہور ہے کہ اس کی شکل ‘سپیون کاپ’ نامی اس پہاڑی سے مشابہ ہے جس کو ‘بوئر وار’ (Boer War) کے دوران فتح کرتے ہوئے تین سو برطانوی فوجی مارے گئے تھے، ان مرنے والوں میں سے اکثریت کا تعلق لیور پول سے تھا۔ اس کے بعد ‘بل شینکلی’ اور ‘باب پیسلی’ کے سنہری ادوار سے ماقبل کلب کو سوائے 1922ء اور 23ء میں دو سال لگاتار لیگ ٹائٹل جیتنے کے مزید کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہ ہوئی۔

بِل شَینکلی (1959-1974)

بِل شَینکلی کا تعلق سکاٹ لینڈ سے تھا۔ 1959ء میں اسے لیورپول کا مینیجر بنایا گیا۔ شینکلی کا کھلاڑیوں کو تربیت دینے، ان کے انتخاب اور مداحوں کے ساتھ میل ملاپ کا طریقہ کار اکثر بحث و مباحثے کو دعوت دیتا، مگر ساتھ ہی ساتھ یہ طرز عمل انقلابی اور کامیاب بھی کہلایا۔ شینکلی کا ایک انقلابی کام ‘بوٹ روم’ (جہاں کھلاڑیوں کے بوٹ رکھے جاتے ہیں) کو کوچنگ سٹاف کا میٹنگ روم بنانا تھا۔ 1960ء کے اوائل سے لے کر 1990ء کے آغاز تک ہر مینیجر نے اس کمرے کو کوچنگ سٹاف کی غیر رسمی ملاقات کے لیے استعمال کیا جہاں یہ لوگ بیٹھ کر چائے پیتے، بات چیت کرتے اور غور کرتے کہ اگلی مخالف ٹیم کو کس طرح ہرایا جائے۔ شینکلی ایماندار ہونے کے ساتھ ساتھ منہ پھٹ بھی تھا، جو اس کے دل میں ہوتا وہی زبان پر ہوتا اور اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ نتیجہ کیا نکلے گا۔ اس نے مداحوں کی جانب سے لکھے گئے خطوں کا جواب دے کر اور اثرانگیز تقریریں کر کے ایک نئی طرح ڈالی جو اس سے پہلے انگلش فٹبال لیگ میں مفقود تھی۔ بل شینکلی نے اپنے دور مینیجری میں دس ٹرافیاں جیتیں جن میں قابل ذکر ایک ‘یوئیفا کپ’ (1973ء) (جس کو 2009ء سے ‘یوئیفا یورپا لیگ’ کہا جانے لگا ہے)، تین فرسٹ ڈویژن لیگز اور دو ‘ایف اے کپ’ ہیں۔

بَاب پَیسلی (1974-1983)

جب بل شینکلی ریٹائر ہوا تو اس وقت بَاب پَیسلی اسسٹنٹ مینیجر تھا۔ شینکلی جیسے عظیم مینیجر کی جگہ لینا ایک بھاری ذمہ داری تھی اور پہلے پہل پیسلی کو ہچکچاہٹ بھی محسوس ہوئی، مگر بعد میں زمانے نے ثابت کیا کہ پیسلی نے اپنے ‘استاد’ اور کلب کا نام مزید روشن کیا، اسے گھٹایا نہیں۔ اپنے نو سالہ دور میں پیسلی نے بیس ٹرافیاں جیتیں، اور کوئی سال ایسا نہیں تھا جب ٹرافی نہ جیتی گئی ہو۔ یہ نو سال لیورپول کی مکمل بالادستی کے سال تھے۔ ان سے پہلے اور بعد میں (اب تک) لیورپول کو ایسا غلبہ حاصل نہیں ہوا۔ تین ‘یورپیئن کپ’ (1977، 78، 81) (جس کو 1992 سے ‘یوئیفا چیمپینز لیگ’ کہا جانے لگا ہے)، ایک یوئیفا کپ، ایک ‘یوئیفا سپر کپ’ (جس میں یورپیئن کپ اور یوئیفا کپ جیتنے والے کلب مدمقابل ہوتے ہیں) اور چھے فرسٹ ڈویژن لیگ ٹائٹلز سے یہ دور مزین ہے۔

‘کِنگ’ کَینِی ڈالگِلش (1977-1991)

کینی ڈالگلش جس کو مداح پیار سے ‘کِنگ کَینی’ کہتے تھے کا تعلق سکاٹ لینڈ سے ہے۔ لیورپول فٹبال کلب کی تاریخ میں کینی ڈالگلش کی حیثیت ایک عظیم اور جگمگاتے ستارے کے رہے گی۔ ڈالگلش انگلش فٹبال میں وہ پہلا بندہ تھا جو بیک وقت کھلاڑی بھی تھا اور اپنے کلب (لیورپول) کا مینیجر بھی۔ 1977ء میں باب پیسلی ڈالگلش کو ‘سیلٹک فٹبال کلب’ سے لیورپول میں لے کر آیا۔ یہاں شاندار کھیل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ڈالگلش نے پیسلی سے ٹیم مینجمنٹ کے گُر بھی سیکھے۔ اگر بطور کھلاڑی بات کی جائے تو 1977ء سے لے 1991ء تک ڈالگلش نے لیورپول کی جانب سے پانچ سو دو مقابلوں میں حصہ لیا اور اسٹرائیکر ہونے کے ناطے ایک سو بہتر گول کیے۔ 1985ء میں ‘جو فاگان’، جس کے دو سالہ دور مینیجری میں لیورپول نے چوتھا یورپیئن کپ جیتا، کے بعد کینی ڈالگلش کو مینیجر بنایا گیا۔ چھے سالہ دور مینیجری میں لیورپول نے دس ٹائٹلز اپنے نام کیے جن میں تین فرسٹ ڈویژن لیگ جبکہ دو ایف اے کپ شامل ہیں۔ ڈالگلش کے زمانے میں لیورپول ان اعزازات سے بڑھ کر جیت سکتا تھا اگر ‘ہیسل’ اور ‘ہلزبورو’ جیسے سانحات نہ ہوتے۔

‘ہیسل’ (Heysel) اور ‘ہلزبورو’ (Hillsborough) کے سانحات

کینی ڈالگلش کے زمانے میں لیورپول کو بالخصوص اور انگلش فٹبال کو بالعموم دو سانحات سے گزرنا پڑا۔ ان میں سے پہلا سانحہ لیورپول فٹبال کلب کے دامن پر ہمیشہ ایک سیاہ داغ کے موجود رہے گا، جب 1985ء میں بیلجیئم کے شہر ہیسل میں یورپیئن کپ کے فائنل میں لیورپول اور اطالوی کلب ‘یووینٹس’ آمنے سامنے تھے تو لیورپول کے شائقین نے یووینٹس والوں پر پتھر پھینکنا شروع کر دیے۔ یووینٹس کے شائقین نے جواباً اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور یوں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں اسٹیڈیم کی ایک دیوار نیچے آ گری اور انتالیس شائقین جان سے گئے۔ تحقیق اور تفتیش کے بعد لیورپول کے چھبیس شائقین پر قتل و غارت گری کا مقدمہ چلا اور انھیں بیلجیئم میں قید کی سزا کاٹنی پڑی۔ دوسری طرف لیورپول کلب کو چھے سال کے لیے کسی بھی یورپیئن مقابلے میں شرکت سے روک دیا گیا، جبکہ دیگر انگلش کلبوں پر پانچ سال کی پابندی عائد کی گئی۔

دوسرا سانحہ لیورپول اور انگلش فٹبال کی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک ہے۔ مگر یہاں سانحہ ہیسل کے الٹ لیورپول کے شائقین مجرم کے بجائے مظلوم تھے، لیکن یہاں بھی چوبیس سال تک انھیں قصوروار سمجھا جاتا رہا۔ واقعہ کے مطابق 1989ء میں ‘شیفلڈ وینیسڈے اسٹیڈیم’ ہلزبورو میں لیورپول اور ‘ناٹنگھم فٹبال کلب’ کے درمیان ایف اے کپ کا سیمی فائنل جاری تھا، جب ناقص انتظامات اور ایک ناتجربہ کار پولیس سربراہ کے غلط فیصلے کی بنا پر لیورپول شائقین کی ایک بڑی تعداد کو تنگ جگہ پر دھکیل دیا گیا اور اس میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہا۔ نتیجتاً اسٹیڈیم کے اگلے حصے پر موجود جنگلے پر دباؤ پڑا اور چھیانوے شائقین دم گھٹنے سے چل بسے جبکہ سات سو چھیاسٹھ زخمی ہوئے۔ مختلف اخبارات اور جرائد میں الزام لگایا گیا کہ لیورپول شائقین کی بڑی تعداد نشے میں دھت، مجرم پیشہ، پولیس پر پتھراؤ کرنے والی اور ٹکٹ کے بغیر شریک تھی، اور سالہا سال یہاں تک ان کی تکرار ہوتی رہی یہاں تک کے ۲۰۱۳ء میں ایک انگلش عدالت نے فیصلہ سنایا کہ افسوس ناک سانحے کے ذمہ دار لیورپول شائقین نہیں بلکہ پولیس اہلکار ہیں۔ فیصلے میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ محکمہ پولیس نے اپنے اہلکاروں کو بچانے کے لیے ایسے تمام ثبوتوں کو چھپایا اور شہادتوں میں ردوبدل کیا جو ان کے خلاف جا رہی تھیں۔ مذکورہ معاملہ وزیراعظم ‘مارگریٹ تھیچر’ کے پاس گیا تو اس نے بھی پولیس کے خلاف کارروائی سے انکار کیا۔

عرصۂ ‘قحط سالی’ سے جَرگَن کلاپ کی آمد تک (1990-2015)

1990ء میں لیورپول نے اپنا اٹھارواں فرسٹ ڈویژن لیگ ٹائٹل جیتا۔ 1992ء سے لیگ کا یہ پہلا درجہ انگلش پریمئر لیگ کہلانے لگا۔ یہ صرف نام کا فرق نہیں تھا بلکہ اس تبدیلی کے ساتھ غیر ملکی کھلاڑیوں کو خریدنے اور غیر ملکی مینیجروں کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی۔ ٹی وی اشتہارات اور سپانسروں کی بھرمار سے بے تحاشا پیسہ آیا، کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں بے حد اضافہ ہوا اور مینیجروں سے بڑی بڑی امیدیں باندھی جانے لگیں۔ 1991ء میں کینی ڈالگلش کی رخصتی کے بعد سے 2015ء تک نو مینیجروں کا تقرر کیا گیا، مگر چند بڑی اور چھوٹی کامیابیوں اور اعزازات کے چوبیس سال لیورپول کے لیے زیادہ خوش آئند ثابت نہیں ہوئے اور یہ محض بارہ اعزازات اپنے نام کر سکا۔ حالانکہ اس دوران لیورپول کو دنیائے فٹبال کے کئی بڑے اور نامور کھلاڑیوں کا ساتھ بھی نصیب رہا جن میں سے کچھ مقامی اور زیادہ تر غیر ملکی تھے، جیسے کہ سٹیون جیرارڈ، لوئس سواریز، فرنینڈو ٹوریس، مائیکل اوون، روبی فاؤلر اور چابی الونسو وغیرہ لیکن کامیابیوں کے تسلسل کا فقدان رہا۔ اگر مینیجروں کی بات کی جائے تو ‘رافا بینٹز’ (2004-2010) کا چھے سالہ دور نسبتاً دوسروں کے زیادہ کامیاب رہا۔ اس عرصے میں لیورپول نے چار ٹائٹلز اپنے نام کیے جن میں سے دو تاریخ ساز کہلائے جانے کے لائق ہیں۔

استنبول اور کارڈف میں کرشمے: (2005، 2006)

2005ء میں استنبول (ترکی) میں ہونے والا چیمپیئنز لیگ کا فائنل نہ صرف لیورپول بلکہ چیمپیئنز لیگ کی تاریخ کے چند یادگار مقابلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ لیورپول کے مدمقابل اطالوی کلب ‘اے سی میلان’ تھا۔ پہلے ہاف میں میلان نے لیورپول کو چاروں شانے چت کر دیا اور صفر کے مقابلے میں تین گول داغ دیے۔ فٹبال کے شائقین اور مداح جانتے ہیں تین گولوں کے خسارے کو ختم کرنا کتنا مشکل اور کٹھن ہوتا ہے۔ مگر رافا بینٹز کی لیورپول نے ہمت نہیں ہاری اور دوسرے ہاف کے آغاز سے ہی سر توڑ کوشش کر دی اور نویں منٹ میں کپتان سٹیون جیرارڈ نے خوبصورت ہیڈر کے ذریعے پہلا گول کر دیا۔ دو منٹ بعد ہی ‘ولادمیر سمائسر’ نے دور سے کک مارتے ہوئے دوسرا گول کر دیا، اور پھر چار منٹ بعد ہی انہونی ہو گئی جب جیرارڈ کو گول باکس میں گرائے جانے پر لیورپول کو پینلٹی مل گئی اور چابی الونسو نے پینلٹی کک روکے جانے کے باوجود پلٹ آنے والی بال پر گول کر کے سکور تین – تین سے برابر کر دیا۔ مقابلے میں جان پڑ چکی تھی۔ اے سی میلان نے لیورپول کے گول پر تابڑ توڑ حملے کیے لیکن گول کیپر ‘جرزی ڈوڈیک’ نے شاندار انداز میں کئی روکے اور مقابلہ پینلٹی شوٹ آؤٹ پر چلا گیا۔ اے سی میلان کی طرف سے ماری جانے والی پہلی پینلٹی گول پوسٹ سے باہر گئی اور لیورپول کی تیسری پینلٹی روک لی گئی۔ اس موقع پر گول کیپر جرزی ڈوڈیک ایک دفعہ پھر ہیرو کے روپ میں سامنے آٰیا جب اس نے کمال مہارت سے میلان کے دو نامی گرامی کھلاڑیوں ‘ِپرلو’ اور ‘شَیوْچَینکو’ کی پینلٹیز روک کر ٹائٹل تین – دو سے لیورپول کی جھولی میں ڈال دیا۔

اگلے ہی سال ‘میلینیئم اسٹیڈیم’ کارڈف میں تاریخ نے اپنے آپ کو ایک دفعہ پھر دہرایا۔ لیورپول ‘ویسٹ ہیم یونائیٹڈ’ کے مقابلے میں دو – تین سے پیچھے تھی، نوے منٹ مکمل ہو چکے تھے اور اختتامی لمحات چل رہے تھے جب کپتان سٹیون جیرارڈ نے بتیس میٹر دور سے کک مار کر گول کر دیا اور ہارتے ہوئے فائنل میں پھر جان ڈال دی۔ گذشتہ سال کی چیمپیئنز لیگ کی طرح اس دفعہ بھی فیصلہ پینلٹی شوٹ آؤٹ پر گیا، لیکن اس بار ڈوڈیک کی بجائے ہیرو گول کیپر ‘پیپے رائنا’ ثابت ہوئے جس نے ویسٹ ہیم کی تین پینلٹیز روک کر مقابلہ تین – ایک سے لیورپول کے حق میں کر دیا اور اسے ساتویں دفعہ ایف اے کپ کا چیمپیئن بنا دیا۔

مالی بدحالی اور میدان میں رسوائی:

2006ء کے بعد لیورپول کی کارکردگی اور مالی حالت دونوں میں بتدریج زوال آیا اور ایک دفعہ صورتحال دگرگوں ہو گئی، جب 2007ء سے 2010ء کے مابین سابقہ امریکی مالکان ‘ٹام ہکس’ اور ‘جارج جیلیٹ’ نے کلب کو شدید مالی بحران سے دوچار کرتے ہوئے دو سو سینتیس ملین پاؤنڈز کا مقروض کر دیا۔ کلب دیوالیہ ہونے کو تھا اور ڈائریکٹر اس کوشش میں تھے کہ ‘انگلش فٹبال ایسوسی ایشن’ اسے کسی دوسرے گروپ کے ہاتھوں فروخت کرے کہ مالکان مقدمہ لندن ہائی کورٹ میں لے گئے، جہاں انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور تین سو ملین پاؤنڈز میں لیورپول ‘فین وے سپورٹس گروپ’ (Fenway Sports Group) کو فروخت کرنا پڑا۔ کھیلوں کے حوالے سے تجربہ کار ہونے کی بنا پر فین وے نے کلب کی بگڑتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا اور خسارے کو بتدریج ختم کرنے کے لیے تمام اقدامات بروئے کار لائے جس کی وجہ سے وہ اب ختم ہونے کو ہے۔ موجودہ وقت میں لیورپول کی قیمت ایک اعشاریہ دو بلین پاؤنڈز کے قریب ہے اور گذشتہ دو سالوں سے بالترتیب بیالیس ملین اور ایک سو پچیس ملین پاؤنڈز منافع بھی کمایا ہے۔

اگر میدان میں پیش کی جانے والی کارکردگی کی بات کی جائے تو 2007ء میں لیورپول ایک دفعہ پھر چیمپیئنز لیگ فائنل میں پہنچا، اور مقابلے پر ایک بار پھر اے سی میلان تھا، مگر اس بار قسمت میلان پر مہربان رہی اور وہ دو – ایک سے مقابلہ جیت گیا۔ اگلے تین سال کلب کی بری کارکردگی کے بدولت پہلے رافا بینیٹز کو ہٹایا گیا اور پھر چھے ماہ بعد ہی ‘روئے ہوجسن’ کو بھی گھر کی راہ دکھا دی گئی۔ 2011ء میں لیورپول لیجنڈ کینی ڈالگلش کو ایک مرتبہ پھر مینیجر کی ذمہ داریاں سونپی گئیں، نئے کھلاڑی کو خریدنے واسطے خطیر رقم دی گئی، تاکہ پھر ماضی کا سا جوش و جذبہ جگا دیا جائے، مگر ایک ‘فٹبال لیگ کپ’ جیتنے کے علاوہ کوئی فائدہ نہ ہوا اور ڈیڑھ سال بعد ہی ڈالگلش کو بھی رخصت کر دیا گیا۔ ڈالگلش کے بعد شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ‘برینڈن راجرز’ کو مینیجر بنایا گیا جس نے ٹیم کو کچھ سنبھالا دیا اور رافا بینیٹز کے ابتدائی دور کے بعد کلب کی عزت کو قدرے بحال کیا۔ راجرز نے انگلش ٹیموں کی روایت کے برخلاف ‘پاسنگ سٹائل آف گیم’ پر زور دیا جس کا خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ 2013ء کے پہلے سیزن میں ساتویں پوزیشن کے بعد اگلے سال لیورپول نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور چوبیس سال بعد پریمیئر لیگ جیتنے کے قریب پہنچ گئی۔ لیورپول دوسرے نمبر پر موجود مانچسٹر سٹی سے پانچ پوائنٹس اوپر تھی اور پیچھے تین مقابلے رہ گئے تھے، جب ہوم گراؤنڈ اینفیلڈ پر کھیلتے ہوئے اسے چیلسی کے خلاف صفر – دو سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس مقابلے کی خاص بات لیورپول کے لیجنڈ سٹوین جیرارڈ کا اہم موقع پر پھسلنا تھا جس سے چیلسی کے کھلاڑی نے فائدہ اٹھایا اور لیورپول کے خلاف گول کر دیا۔ اگلے مقابلے میں پھر ہزیمت کا سامنا اٹھانا پڑا جب ‘کرسٹل پیلس’ کے ہوم گراؤنڈ پر تین – صفر کی برتری برقرار نہ رکھی جا سکی اور آخری بارہ منٹ میں کرسٹل پیلس نے تین گول کر کے مقابلہ برابر کر دیا۔ اس تنزلی سے مانچسٹر سٹی نے فائدہ اٹھایا اور باقی ماندہ مقابلے جیت کر صرف دو پوائنٹس کے فرق سے ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ تمام مثبت امیدوں کے برخلاف 2014-15 کے سیزن میں کلب کو ایک بار پھر نظر لگ گئی، ‘سٹوک سٹی’ کے ہاتھوں بدترین چھے – ایک سے شکست ہوئی، اور پوائنٹس ٹیبل پر چھٹی پوزیشن کے ساتھ گزارا کرنا پڑا۔ کلب کے نامور کھلاڑیوں ‘لوئس سواریز’ اور ‘رحیم سٹرلنگ’ کو ایک دو سیزن کے فرق سے فروخت کرنا پڑا۔ سٹوین جیرارڈ نے بھی سترہ سال بعد اپنے ہوم کلب کو خیرباد کہہ دیا۔ نیا سیزن شروع ہونے کے دو ماہ بعد ہی برینڈن راجرز کے سر سے بھی ہاتھ اٹھا لیا گیا اور اس کی جگہ جرمنی سے تعلق رکھنے والے ‘جرگن کلاپ’ کو نیا مینیجر مقرر کیا گیا جو تاحال اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی نبھا رہا ہے۔

جرگن کلاپ (2015 – تاحال)

‘مانز 05 اور بروشیا ڈورٹمنڈ کی مینیجری:

جرگن کلاپ کا تعلق جرمنی سے ہے۔ 2015ء میں لیورپول آنے سے پہلے کلاپ جرمنی میں ہی ‘مانز 05’ اور ‘بروشیا ڈورٹمنڈ’ نامی کلبوں کا مینیجر رہ چکا ہے۔ مینیجر بننے سے پہلے کلاپ مانز 05 میں ہی بطور کھلاڑی گیارہ سال تک کھیلتا بھی رہا۔ 2001ء میں کھیل کو الوداع کہتے ہوئے مانز 05 سے ریٹائر ہوا تو کلب نے اسے اپنا مینیجر بنا لیا۔ مانز 05 اڑتیس سالوں سے جرمن فٹبال لیگ ‘بوندِزلیگا’ کے سیکنڈ ٹائر میں کھیل رہا تھا، کلاپ نے اپنے تیسرے سیزن میں اسے فرسٹ ٹائر میں پہنچا دیا اور پھر تین سال تک وہ اس میں کھیلتا رہا۔ ۲۰۰۷ کے سیزن اختتام پر مانز 05 ایک دفعہ پھر سیکنڈ ٹائر میں چلا گیا اور جب اگلے سیزن میں واپس آنے میں کامیاب نہ ہو سکا تو کلاپ نے یہاں سے رخصت لی اور بروشیا ڈورٹمنڈ کی مینیجری قبول کر لی۔ اس وقت گو ڈورٹمنڈ مرکزی بوندزلیگا میں ہی کھیل رہا تھا لیکن اس کی کارکردگی تسلی بخش نہ تھی۔ پہلے سیزن میں چھٹی اور دوسرے میں پانچویں پوزیشن پر لانے کے بعد تیسرے سیزن میں کلاپ نے ڈورٹمنڈ کو بوندزلیگا چیمپیئن بنا دیا۔ 2002ء کے بعد یہ ڈورٹمنڈ کا پہلا ٹائٹل تھا۔ اگلا سال 2012ء اس سے بھی زیادہ کامیاب رہا اور ڈورٹمنڈ نہ صرف لیگ چیمپیئن بنا بلکہ ‘جرمن کپ’ کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔ اس طرح وہ ایک ہی سیزن میں بیک وقت دو ٹائٹلز جیتنے میں پہلی دفعہ کامیاب ہوا۔ کلاپ اور ڈورٹمنڈ کی ترقی کا سفر جاری رہا اور 2013ء کی چیمپیئنز لیگ میں ‘گروپ آف ڈیتھ’ (ریال میڈرڈ، مانچسٹر سٹی اور ایجکس) سے سرخرو نکلنے کے بعد اس نے فائنل میں جگہ بنائی، مگر بدقسمتی سے یہاں اسے ساتھی جرمن کلب ‘بائن میونخ’ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ڈورٹمنڈ کی تاریخ کا دوسرا چیمپیئنز لیگ فائنل تھا۔ جس طرح ہر کمال کو زوال ہے، اسی طرح دو تین سیزنز کی بہترین کارکردگی کے بعد تنزلی کا سفر شروع ہوا اور دو سال بعد 2015ء کے سیزن اختتام پر کلاپ نے بھاری دل کے ساتھ ڈورٹمنڈ سے بھی ناطہ توڑ لیا۔

8 اکتوبر 2015ء کے دن جرگن کلاپ کو برینڈن راجرز کی جگہ لیورپول کا مینیجر مقرر کیا گیا۔ 2015-16 کے پہلے سیزن میں گو پریمیئر لیگ کے حساب سے کارکردگی تسلی بخش نہ تھی اور لیورپول کے حصے میں آٹھویں پوزیشن آئی، لیکن کلاپ نے کلب کو یوئیفا یورپا کپ کے فائنل میں پہنچا دیا جہاں اسے ہسپانوی کلب ‘سیویلا’ کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ دوسرے سیزن میں لیورپول چوتھی پوزیشن پر آیا اور بعد ازاں چیمپیئنز لیگ کے لیے بھی کوالیفائی کر لیا۔ تیسرے سیزن میں ایک دفعہ پھر چوتھی پوزیشن آئی مگر فرق یہ تھا اس بار لیورپول یورپا لیگ کی بجائے چیمپیئنز لیگ فائنل جیتنے کے لیے زور آزمائی کر رہا تھا، مگر فائنل مقابلے ہارنے کی روایت برقرار رہی اور ریال میڈرڈ کے ہاتھوں ایک – تین سے شکست ہوئی۔ ہار کے باوجود کلاپ اور کوچنگ سٹاف دل برداشتہ نہ ہوئے، بلکہ مستقل محنت جاری رکھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 2018-19 اور 2019-20 کے آخری دو سیزنز میں جیت کا ایک تسلسل دیکھنے میں آیا اور لیورپول نے ایک عرصے بعد اتنے کم وقت میں کئی ٹائٹلز اپنے نام کیے۔

سیزن 2018-2019

سیزن کے آغاز سے ہی لیورپول نے چھے مقابلے جیت کر کلب ریکارڈ قائم کر دیا۔ سیزن کے عین درمیان میں صورتحال یہ تھی کہ لیورپول ٹیبل پر چھے پوائنٹس کی برتری لیے ہوئے ناقابل شکست تھا۔ جرگن کلاپ کو دسمبر میں ‘پریمیئر لیگ مینیجر آف دی منتھ’ کا ایوارڈ دیا گیا۔ اور پھر سیزن کا اختتام اس صورت میں ہوا کہ لیورپول نے تیس مقابلے جیت کر کلب ریکارڈ قائم کیا، سات مقابلے برابر جبکہ صرف ایک میں اسے مانچسٹر سٹی کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح ستانوے پوائنٹس کا حق دار ٹھہرا، لیکن حیران کن طور پر پھر بھی چیمپیئن نہیں بن پایا۔ جی ہاں! کیونکہ صرف ایک شکست دینے والا مانچسٹر سٹی اٹھانوے پوائنٹس کے ساتھ فاتح تھا۔ مگر دوسری طرف یہ بھی تاریخ ساز حقیقت ہے کہ ستانوے پوائنٹس حاصل کرنے کے باوجود نہ جیت پانا بھی اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ گذشتہ ستائیس میں سے پچیس سیزنز میں اگر یہی پوائنٹس حاصل کیے جاتے تو لیورپول فاتح ٹھہرتا۔ ستانوے پوائنٹس کا یہ ہندسہ زیادہ پوائنٹس لینے والی فہرست میں چوتھے نمبر پر آتا ہے (2017-18 میں مانچسٹر سٹی نے سو پوائنٹس حاصل کر کے پریمیئر لیگ ریکارڈ بنایا تھا، اس کے بعد 2019-20 میں لیورپول کے حاصل کیے گئے نناوے پوائنٹس دوسرے نمبر پر آتے ہیں)۔

پریمیئر لیگ کے صدمے کے باوجود لیورپول نے دوسرے سال لگاتار چیمپینز لیگ فائنل میں رسائی حاصل کی۔ اس سے پہلے کے دو فائنل مقابلے لیورپول اور کلاپ دونوں کے لیے مثبت نتائج نہیں لیے ہوئے تھے کہ دونوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا (لیورپول کو 2007ء اور 2018ء میں، جبکہ کلاپ کو 2013ء اور 2018ء میں)، مگر اس بار قسمت نے یاوری کی، اور لیورپول پریمیئر لیگ کے ساتھی کلب ‘ٹاٹینہم ہوٹسپر’ کو دو – صفر سے زیر کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ لیورپول کا چھٹا اور کلاپ کا پہلا چیمپیئنز لیگ ٹائٹل تھا۔ سال کے اختتام پر جرگن کلاپ کو ‘بیسٹ فیفا مینز کوچ’ کا ایورڈ ملا، جبکہ ‘فیفا بیلین ڈی اور’ کے حصول میں دفاعی کھلاڑی ‘ورجل وین ڈائک’ لیونل میسی کے بعد دوسرے نمبر پر رہے۔ دوسری طرف وین ڈائک کو پریمیئر لیگ میں ‘پلیئر آف دی ایئر’ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ساتھی کھلاڑی محمد صلاح اور سادیو مانے ‘گولڈن بوٹ’ اور گول کیپر ایلیسن بیکر ‘گولڈن گلو’ کے حقدار ٹھہرے۔

سیزن 2019-2020

پریمیئر لیگ سیزن کے آغاز سے پہلے چیمپیئنز لیگ فاتح لیورپول کا مقابلہ یورپا کپ جیتنے والے چیلسی کے ساتھ ‘یوئیفا سپر کپ’ میں ہوا جس میں لیورپول نے چیلسی کو پینلٹی شوٹ آؤٹ پر پانچ – چار سے شکست دی۔ اس کے بعد ‘فیفا کلب ورلڈ کپ’ میں اس کا سامنا برازیلین کلب ‘فلیمِنگو’ کے ساتھ ہوا، یہاں بھی قسمت مہربان رہی اور لیورپول نے ایکسٹرا ٹائم میں واحد گول کر کے پہلی دفعہ یہ اعزاز اپنے نام کیا (اس سے قبل تین بار شکست ہو چکی تھی)۔ اس طرح لیورپول انگلش فٹبال کا وہ پہلا کلب بن گیا جس نے تین عالمی اعزازات بیک وقت اپنے نام کیے: چیمپیئنز لیگ، یوئیفا سپر کپ اور فیفا کلب ورلڈ کپ۔

پریمیئر لیگ کے اس سیزن میں سیزن کے دوران لیورپول نے متعدد ریکارڈز بنائے، جبکہ اختتام پر بھی چند ایک اپنے نام کیے، کچھ برابر کیے اور کئی توڑتے توڑتے رہ گئے۔ ان کا مختصر احوال اس طرح ہے کہ سیزن کا آغاز ایک بار پھر شاندار انداز میں ہوا، لیورپول پہلے چھے مقابلے جیت کر انگلش فٹبال کا پہلا کلب بن گیا جس نے مسلسل دو سال اولین چھے مقابلے جیتے ہوں۔ پھر اول فروری 2020ء میں اور بعد میں کورونا کے باعث کیے جانے لاک ڈاؤن (13 مارچ) کے وقت صورتحال یہ تھی کہ لیورپول اور دوسرے نمبر پر براجمان مانچسٹر سٹی کے درمیان پچیس پوائنٹس کا فرق تھا جو انگلش فٹبال کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ اینفیلڈ پر لگاتار اکیس مقابلے جیت کر ماچسٹر سٹی کا 20112 میں بیس مقابلے جیتنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا (لیورپول نے کل چوبیس کامیابیاں سمیٹیں جن میں سے سات گذشتہ سیزن سے تھیں)۔ 25 جون 2020ء کو جب لیورپول تیس سال بعد پریمیئر لیگ کا فاتح قرار پایا تو اسے ابھی مزید سات مقابلے کھیلنے تھے، یہ انگلش فٹبال میں بحساب مقابلوں کے جلد ترین فتح تھی، تاہم لاک ڈاؤن کے باعث وہ وقت کے حساب سے یہ ریکارڈ اپنے نام نہ کر سکا۔ بالفرض اگر لیگ تعطل کا شکار نہ ہوتی، مقابلے معمول کے مطابق ہوتے، اور لیورپول اور سٹی اپنے آنے والے مقابلے جیتتے رہتے تو دو مقابلوں کے بعد ہی 21 مارچ کو لیورپول نے پریمیئر لیگ چیمپیئن بن جانا تھا اور یوں مانچسٹر یونائیٹڈ کا 14 اپریل 2001ء کو قائم کیا گیا ریکارڈ آرام سے ٹوٹ جاتا۔ اگر یہ مثالی صورتحال واقع نہ ہوتی تب بھی بیچ میں دو ہفتے ایسے تھے جب لیورپول ٹائٹل اپنے نام کر سکتا تھا۔ م

گر حقیقت میں یہ ہوا کہ وہ 25 جون کو فاتح قرار پایا جو سب سے دیر سے ہے کیونکہ پریمیئر لیگ مئی میں مکمل ہو جاتی ہے، اور اس سے پہلے کبھی جون تک جانے کی نوبت نہیں آئی۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے جب پریمیئر لیگ کو حالات کی بہتری تک معطل کر دیا گیا تو طرح طرح کے سوالات اور خدشات سر اٹھانے لگے کہ اگر کورونا کی وجہ سے سیزن مکمل نہ ہوا تو موجودہ سیزن کا سٹیٹس کیا ہو گا؟ آیا جو جس پوزیشن پر ہے اس کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے گا یا پورے سیزن کو کالعدم (void) قرار دیا جائے گا؟ یہ دوسری صورت لیورپول فٹبال کلب سے وابستہ افراد اور چاہنے والوں کے لیے کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھی کہ تیس سال بعد جو خواب شرمندۂ تعبیر ہونے کے بالکل قریب تھا وہ پورا نہیں ہو سکا، مگر 17 جون کو جب حالات قدرے سازگار ہوئے اور پریمیئر لیگ کا دوبارہ آغاز ہوا تو کلب کے سٹاف، کھلاڑیوں اور مداحوں کی جان میں جان آئی اور انھیں اپنے خواب کی تعبیر قریب نظر آنے لگی۔

اگر برابر کیے جانے والے ریکارڈز پر نظر ڈالی جائے تو لیورپول نے ایک سیزن میں سب سے زیادہ کامیابیاں (32) سمیٹنے کا ریکارڈ مانچسٹر سٹی کے ساتھ برابر کیا جو وہ پچھلے دو سال سے بنا رہا تھا۔ سب سے زیادہ مقابلے ہوم گراؤنڈ پر جیتنے (18) کا ریکارڈ چیلسی، مانچسٹر یونائیٹڈ اور مانچسٹر سٹی کے ساتھ برابر کیا ( ‘برنلے’ کے ساتھ واحد مقابلہ ایک – ایک سے برابر رہا)۔ اسی طرح سب سے زیادہ لگاتار مقابلے جیتنے (18) کا ریکارڈ بھی مانچسٹر سٹی کے ساتھ برابر کیا (‘واٹفورڈ’ نے تین – صفر سے زیر کر کے لیورپول کو ریکارڈ بنانے سے روک دیا)، اور اس آخر الذکر شکست کے ساتھ ہی لیورپول کا چوالیس مقابلے نہ ہارنے کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا، وہ پانچ مقابلوں کے فرق سے آرسنل کا مئی 2003ء سے اکتوبر 2004ء کے درمیانی عرصے میں انچاس مقابلوں میں ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ نہیں توڑ سکا (اس عرصہ میں آرسنل کو ‘ناقابل تسخیر’ (Invincibles) کہہ کر پکارا جاتا تھا)۔اس بے مثال تاریخی اور یادگار کارکردگی پر جرگن کلاپ کو ‘پریمیئر لیگ مینیجر آف دی سیزن’، جبکہ رائٹ بیک کھلاڑی ‘ٹرینٹ الیگزینڈر آرنلڈ’ کو ‘پریمیئر لیگ ینگ پلیئر آف دی سیزن’ کے اعزازات سے نوازا گیا۔

کامیابی کے پیچھے کے عوامل اور اہم کردار

جرگن کلاپ – مینیجر

فٹبال کے کھیل میں سب سے اہم کردار کلب مینیجر کا ہوتا ہے۔ ایک اچھا اور قابل مینیجر ایک عام ٹیم اور گمنام سے کھلاڑیوں کو چیمپیئن ٹیم اور نامور کھلاڑیوں میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی قدآور کھلاڑی ایک لمبے عرصے تک ٹیم کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھے۔ کبھی کبھار کھلاڑی اپنے شاندار انفرادی کھیل کی بدولت ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کراتا ہے اور نام کماتا ہے، ورنہ اکثر یہ مینیجر کی منصوبہ بندی اور محنت سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ اسی وجہ سے لیورپول کی حالیہ پریمیئر لیگ کامیابی کا سب سے بڑا سہرا جرگن کلاپ کے سر جاتا ہے۔ 8 اکتوبر 2015ء کو جب کلاپ کو مینیجر بنایا گیا تو پریس کانفرنس کے دوران اس نے ایک تاریخی جملہ کہا: "ہمیں تذبذب میں رہنے والوں سے اعتماد اور یقین سے بھرپور لوگوں میں بدلنا ہے۔” 2015ء میں بریڈن راجرز کے زمانے کی ناگفتہ بہ حالت اور پانچ سال بعد 2020ء کی زبان زد عام کارکردگی سب کے سامنے روزِروشن کی طرح عیاں ہے جسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔ لیورپول نے 2019ء میں چھٹا چیمپیئنز لیگ ٹائٹل اپنے نام کیا، تو 2020ء میں تیس سال کے طویل اور صبرآزما عرصے بعد انیسواں فرسٹ ڈویژن لیگ ٹائٹل (پہلا پریمیئر لیگ ٹائٹل) جیتنے میں کامیاب ٹھہرا۔

لیورپول کا تربیتی میدان ‘مَیل وُڈ’ (Melwood) کہلاتا ہے۔ کلاپ کے مطابق تربیتی میدان ہی وہ جگہ ہے جو جیت یا ہار میں فرق ڈالتی ہے۔ یہی جگہ ہے جہاں کھلاڑیوں کی جسمانی مشق ہوتی ہے، اور اسی جگہ پر حریف کے خلاف آزمانے کو حربوں اور چالوں کا استعمال اور جانچ ہوتی ہے۔ کلاپ ہر تربیتی سیشن شروع ہونے سے پہلے اپنے سٹاف کے ساتھ مل کر نہایت باریک بینی سے اس کی منصوبہ بندی کرتا ہے، پھر کھلاڑیوں سے خطاب کرتا ہے اور ہر ایک کو اس کا کردار گہرائی سے سمجھاتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے، یعنی کلاپ ایک مینیجر ہی نہیں ہے جس کا کام صرف منصوبہ بندی کرنا ہے اور باقی کھلاڑی جانیں – نہیں – بلکہ وہ ان کا کوچ بھی ہے جو تربیت اور مشقوں کے پورے عمل پر نظر بھی رکھتا ہے۔ کلاپ جس ہنرمندی اور مستعدی کا دوسروں سے طالب ہوتا ہے، اس کے لیے بطور مثال اپنی ذات کو پہلے پیش کرتا ہے۔ وہ ہر کسی سے ہر کام میں وقت کی پابندی کا خواہاں رہتا ہے، یعنی اگر دس بجے ملاقات کا وقت دیا گیا ہے تو اس کا مطلب ہے دس بجے! دیر سے آنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس پابندئ اوقات کی ایک دلچسپ مثال ہر مقابلے سے پہلے ہونے والے آخری تربیتی سیشن کی ہے، جب ہدایت کے مطابق مقابلہ شروع ہونے سے ٹھیک چوبیس گھنٹے پہلے اس کا آغاز ہوتا ہے۔

کلاپ اور لیوورپول کی کامیابی کا راز اسی میں ہے ہر بندہ اپنے کام اور وقت کا صحیح معنیٰ میں پابند ہے۔ کلاپ نے لیورپول آ کر کوئی نئے اصول وضع نہیں کیے، بلکہ یہ سب وہی ہیں جو وہ بروشیا ڈورٹمنڈ میں بھی استعمال کرتا تھا اور کامیاب ٹھہرتا تھا؛ کھلاڑی کا چاک و چوبند رہنا، نظم و ضبط کا حامل ہونا، مقابلے کے دوران توانائی کا بھرپور اظہار کرنا اور فٹبال کے حصول کے لیے جان لڑا دینا، کلاپ اس حکمت عملی کو ‘ہیوی میٹل فٹبال’ (heavy metal football) سے تعبیر کرتا ہے۔ ان خصوصیات کے علاوہ زیرِ دباؤ کھلاڑیوں کا قولی یا عملی طور پر ساتھ دینا اور حوصلہ بڑھانا بھی کلاپ کی اضافی خوبیوں میں سے ہے۔ اس خوبی کا اظہار کبھی پریس کانفرنس میں تعریف، تو کبھی ٹیم کا حصہ رکھنے، اور کبھی بیرونی دباؤ کو قبول نہ کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس طرح ٹیم میں اتحاد کی فضا قائم رہتی ہے۔ کلاپ یہ سب صرف جیت اور نام کمانے کی خاطر نہیں کرتا بلکہ اس کا لڑکوں کے ساتھ تعلق اور ربط جذبات لیے ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے "میرا سو فیصد جینا مرنا لڑکوں کے لیے ہے، اور لڑکوں کے ساتھ ہے”۔ اس جذباتی تعلق کو سٹرائکر ‘روبرٹو فرمینو’ نے کتنے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے "وہ ہر دن جداگانہ انداز سے ہماری حوصلہ افزائی کا سامان کرتا ہے۔” برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ کے ایک تجزیہ کار نے تبصرہ کیا "(کلاپ) ایک انتہائی کرشماتی شخصیت ہے جس سے کھلاڑی متاثر ہوئے بنا نہیں رہتے۔”

مائیکل ایڈورڈز – سپورٹنگ ڈائریکٹر

لیورپول کی حالیہ کامیابیوں کے پیچھے کلاپ کے بعد اگر کسی شخصیت کا ہاتھ ہے تو وہ مائیکل ایڈورڈز کا ہے۔ ایڈورڈز 2011ء میں لیورپول کے ساتھ منسلک ہوا اور اسے شعبہ تجزیات کا سربراہ بنایا گیا، اعلی کارکردگی کی بدولت 2016ء میں اس کے لیے ‘سپورٹنگ ڈائریکٹر’ کا اہم منصب تخلیق کیا گیا (اس سے پہلے لیورپول کلب انتظمایہ کے ہاں یہ منصب موجود نہیں تھا)۔ کلب کے لیے ایڈورڈز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لیورپول کے ایک واقف کار نے ‘ای ایس پی این’ کو بتایا کہ "لیورپول میں ہر کسی کے نزدیک، یہاں تک (فین وے سپورٹس گروپ) کے مالک ‘جان ڈبلیو ہنری’ کی نظر میں بھی، مائیکل ایڈورڈز کو کھونا اسی طرح ہے جس طرح فارورڈ محمد صلاح کو کھو دینا۔” ایڈورڈز عملی زندگی میں میڈیا کی چکا چوند سے دور رہتا ہے، وہ اکیلا رہنا اور تنہائی پسند ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس نے اپنا کام آزادی اور خودمختاری سے کیا جس کا میٹھا پھل بعد میں سب کو میسر آیا۔ ایڈورڈز کے ذمہ ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کو ڈھونڈ نکالنا، ان سے رابطہ کرنا اور پھر لیورپول تک لے کر آنا ہے۔ اس حوالے سے اس نے کلب میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ایڈورڈز کا مطمح نظر صرف ایک چیز ہے: کلاپ کے انداز فکر و عمل میں کون سا کھلاڑی ٹھیک ٹھیک بیٹھتا ہے، صرف اسی کا انتخاب کیا جائے، اس کے لیے قطعاً ضروری نہیں ہے کہ بڑے ناموں کے پیچھے بھاگا جائے۔

مائیک گورڈن – صدر فین وے سپورٹس گروپ

لیورپول کلب کے تمام معاملات کو مائیک گورڈن دیکھتا ہے۔ اسے مالک ‘جان ڈبلیو ہنری’ اور چیئرمین ‘ٹام ورنر’ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ لیورپول کا اصل مالک گورڈن ہے کیونکہ کلاپ اور ایڈورڈز سے مشاورت کے بعد تمام اہم معاملات کا حتمی فیصلہ وہی کرتا ہے؛ چاہے نیا کھلاڑی خریدنا ہو، موجودہ کے معاہدے کی تجدید یا توسیع کرنی ہو، یا اکیڈمی کے لیے کوچز کی بھرتی کرنی ہو، ان سب پر آخری دستخط گورڈن کے ہوتے ہیں۔ دراصل کلاپ کے زیر نگرانی کوچنگ سٹاف کی باقاعدہ ٹیم ہے، دوسری طرف ایڈورڈز کے ساتھ معاونین اور مددگاروں کا پورا نیٹ ورک ہے، سو گورڈن کا سادہ سا کام یہ ہے کہ وہ دونوں کے ہاتھ مضبوط کرے، ان کے فیصلوں پر مکمل اعتماد کرے، اور حتمی فیصلے سے قبل تفصیلی صلاح مشورہ کرے۔ اس مقصد کے لیے تینوں روزانہ کی بنیاد پر پیغامات کا تبادلہ بذریعہ وٹس ایپ کرتے ہیں۔ ان کی منزل صرف ایک ہے کہ کلب مربوط انداز میں ترقی کی منازل طے کرتا رہے۔ اتحاد و اتفاق کی اس فضا کا مظہر اس صورت میں دیکھیے کہ لیورپول کے لیے 2015ء سے 2020ء تک پانچ سالوں میں فی کھلاڑی لین دین کی اوسط قریباً ایک سو سات ملین پاؤنڈز بنتی ہے، اس لحاظ سے وہ عالمی درجہ بندی میں انتیسویں نمبر پر ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر فہرست میں موجود پہلے دو کلبوں پر نظر ڈالی جائے تو وہ ماچسٹر سٹی اور مانچسٹر یونائیٹڈ ہیں جن کی بالترتیب اوسط چھے سو ملین اور چار سو پچاسی ملین پاؤنڈز کے لگ بھگ آتی ہے۔۔۔ باقی نتیجہ سب کے سامنے ہے!

ایک اور مثال پر غور کیجیے کہ جب جنوری 2018ء میں لیورپول نے اپنا سب سے بہترین کھلاڑی ‘فلپ کوٹیہنو’ ایک سو بیالیس ملین پاؤنڈز میں بارسلونا کو فروخت کیا تو بظاہر یہ گھاٹے کا سودا لگ رہا تھا کہ اتنے بہترین سٹرائیکر کی کمی کو اب کیسے ہورا کیا جائے گا، مگر ایڈورڈز اور اس کی ٹیم نے بدلے میں ملنے والی رقم کو بروئے کار لاتے ہوئے سکواڈ میں موجود کمی اور کوتاہی کو ختم کیا، اور ‘ورجل وین ڈائک’ (پچھتر ملین پاؤنڈز) اور ‘ایلیسن بیکر’ (سرسٹھ ملین پاؤنڈز) کے سودے کر لیے۔ ڈائک اور بیکر کی شمولیت سے فین وے اور ایڈورڈز نے یہ تاثر بھی زائل کر دیا کہ وہ سٹی اور یونائٹڈ جیسے امیر کلبوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ جب ڈائک کو ‘ساؤتھ ہیمپٹن’ سے خریدا گیا تو یہ کسی بھی دفاعی کھلاڑی کی مہنگی ترین خرید تھی، اسی طرح ‘اے ایس روما’ سے بیکر کو بطور گول کیپر خریدنا بھی مہنگا ترین سودا تھا۔ ایک اور پہلو پر نظر ڈالیے کہ نئے ابھرتے کھلاڑیوں کی تلاش پر مامور ٹیم صرف کھلاڑی کا کھیل دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتی بلکہ دوسرے مثبت عوامل کو بھی مدنظر رکھتی ہے، جیسے 2017ء میں مصری کھلاڑی محمد صلاح کو روما سے خرید کر لیورپول لایا گیا تو کھیل کے علاوہ اس کے تربیتی سیشنوں کی نگرانی کی گئی، اس کے کردار کا بغور جائزہ لیا گیا؛ مثلا اس کا اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ برتاؤ کیسا ہے، تربیت و مشق کا طریقہ کار کیا ہے، نجی زندگی میں کیسا ہے وغیرہ، جب ہر حوالے سے مکمل اطمینان ہوا تب سینتیس ملین پاؤنڈز روما کو ادا کیے گئے۔

جارڈن ہینڈرسن – کپتان، مڈفیلڈر

جارڈن ہینڈرسن 2011ء میں لیورپول سے وابستہ ہوا۔ 2015ء میں سٹیون جیرارڈ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اسے کلب کا کپتان بنایا گیا۔ موجودہ ٹیم میں یہ سب سے پرانا اور تجربہ کار کھلاڑی ہے۔ کلاپ کی آمد کے بعد سے ہینڈرسن کے کھیل میں سیزن بہ سیزن نکھار آتا جا رہا ہے، یہاں تک کہ اس سیزن میں اس کی کارکردگی اپنے عروج پر تھی اور ‘پلیئر آف دی سیزن’ کا ایوارڈ جیتنے کا مضبوط امیدوار تھا (مگر قرعہ فال مانچسٹر سٹی کے ‘کیون ڈو برونے’ کے نام نکلا)۔ اس نے چار گول کیے اور پانچ میں مدد فراہم کی۔ بطور کپتان 2019ء میں چیمیئنز لیگ اور اب پریمیئر لیگ جیتنے پر اس کا نام لیورپول کے نامی گرامی کھلاڑیوں کے ساتھ لیا جانے لگا ہے۔

ایلیسن بیکر – گول کیپر

ایلیسن بیکر کو گذشتہ سال فیفا کی جانب سے بہترین گول کیپر کے ایوراڈ سے نوازا گیا تھا۔ اس سیزن میں باوجود زخمی ہونے اور دو مہینے کھیل سے دور رہنے کے اس کی شاندار کارکردگی میں خاص فرق نہیں آیا۔ سترہ مقابلوں میں مخالف کلب کا گول نہ کر پانا گول پوسٹ کے درمیان اس کی بھاری بھرکم موجودگی کا پتا دیتی ہے۔ مستقل مزاجی، بے انتہا توجہ اور اثر و رسوخ اس کے خاص اوصاف ہیں۔

ٹرینٹ الیگزینڈر آرنلڈ – رائٹ بیک ڈیفینڈر

آرنلڈ کی عمر ابھی محض اکیس سال ہے۔ گذشتہ سال ‘پریمیئر لیگ ینگ پلیئر آف دی سیزن’ کا ایوارڈ جیت چکا ہے۔ امسال کارکردگی میں تسلسل کی بنا پر ‘پلیئر آف دی ایئر’ کی چہ میگوئیاں سننے میں آئیں۔ آرنلڈ رائٹ بیک کی پوزیشن پر کھیلتا ہے، اس کی تکنیکی قابلیت قابل داد ہے جس کا ثبوت فری کک پر تین گول کرنے اور دوسروں کو تیرہ میں معاونت فراہم کرنے سے عیاں ہے۔ ثانی الذکر تیرہ گولوں کے ذریعے اس نے اپنا ہی پچھلے سال کا بارہ امدادی گولوں کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا ہے۔

ورجل وین ڈائک – سینٹر بیک ڈیفنڈر

وین ڈائک کو اس وقت دنیا کا بہترین دفاعی کھلاڑی مانا جاتا ہے۔ یہ واحد ڈیفنڈر ہے جس نے گذشتہ سال ‘یوئیفا مینز پلیئر آف دی ایئر’ کا ایوارڈ جیتا اور فیفا ‘بیلین ڈی اور’ میں (لیونل میسی کے بعد) دوسرے نمبر پر آیا۔ اس بے مثال کارکردگی میں ابھی بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، جو اس طرح واضح ہے کہ یہ مسلسل دوسرا سیزن ہے جس میں وین ڈائک ایک منٹ کے لیے بھی بنچ پر نہیں بیٹھا۔ اور اسی لاجواب کارکردگی کا اثر ہے کہ لیورپول کو تیس سال بعد چیمپیئن بننا نصیب ہوا ہے۔ وین ڈائک کے مضبوط دفاع کے بغیر یہ اعزاز حاصل کرنا مشکل تھا۔ وین ڈائک کے حصے پر دو گول اور پانچ میں معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔

اینڈریو رابرٹسن – لیفٹ بیک ڈیفنڈر

اینڈریو رابرٹسن اور الیگزینڈر آرنلڈ ایک دوسرے کے آئینہ دار ہیں۔ دونوں جہاں دفاع کا محاذ بخوبی سنبھالتے ہیں وہاں فارورڈز کی گول کرنے میں پوری پوری امداد کرتے ہیں۔ اگر آرنلڈ نے تیرہ گول کیے ہیں تو رابرٹسن بھی بارہ کے ساتھ داد و تحسین کا حقدار ہے، یعنی کہا جا سکتا کہ لیورپول کی موجودہ کامیابی میں اس کا بھی برابر کا حصہ ہے۔ بڑے مقابلوں میں اکثر اس کے کراس پاس سودمند ثابت ہوتے ہیں۔

محمد صَلاح – فارورڈ

مصری کھلاڑی محمد صلاح لیورپول کے لیے گول کرنے والی مشین ہے۔ ایک سو باون مقابلوں میں چورانوے گول اس کے اعزاز پر ہیں اور اڑتیس معاون گول اس کے علاوہ ہیں۔ اس سیزن میں اس نے تئیس گول کیے اور تیرہ میں مدد فراہم کی، اس طرح چھتیس گولوں میں شمولیت کے ساتھ یہ تمام ساتھی کھلاڑیوں سے آگے رہا۔ جس دن صلاح اپنے جوبن پر ہو اس دن اس کو روکنا ناممکن ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے موجودہ ٹیم میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

سادیو مانے – فارورڈ

کپتان جارڈن ہینڈرسن کے علاوہ اگر کسی دوسرے کھلاڑی کے بارے میں یہ امید تھی کہ وہ ‘پریمیئر لیگ پلیئر آف دی سیزن’ کا ایوارڈ جیت سکتا ہے تو وہ سینیگال سے تعلق رکھنے والا سادیو مانے تھا۔ مانے نے اس سیزن میں اپنی نمایاں کارکردگی کی بدلوت سب کا دل موہ لیا؛ مستقل مزاجی، جوش و جذبہ اور کھیل کا اعلی معیار یہ سب خاصیتیں اس بار جمع تھیں۔ اٹھائیس سالہ مانے کو پریمیئر لیگ چیمپیئن بننے کے حوالے سے سب سے زیادہ مضطرب پایا گیا، کیونکہ کتنے ہی مقابلے تھے جس میں اس نے اپنی خدادا صلاحیتوں اور ہار نہ ماننے والی خاصیت کے بدولت ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرایا۔ اگرچہ مانے کے ذاتی اور امدادی گول صلاح سے کم ہیں (22+12=34)، مگر بغور جائزے کے مطابق ان میں اکثر اہم موقعوں پر کیے گئے۔ دوسرا مانے نے ہر طرح کا کھیل پیش کر کے بھی صلاح پر اپنی برتری کو ثابت کیا۔

تاثرات

25 جون 2020ء کو لیورپول کے فاتح قرار دیے جانے کے ساتھ ہی کھلاڑیوں، مینیجروں، ساتھی کلبوں سمیت دنیا بھر کی کئی جانی مانی شخصیات اور ہزاروں مداحوں نے اپنے اپنے تاثرات، جذبات اور تہنیتی پیغامات انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر حوالے کرنا شروع کر دیے۔ ان میں سے منتخب تاثرات نظر قارئین کیے جاتے ہیں:

جرگن کلاپ:

میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، یہ ناقابل یقین ہے۔ یہ میری امکانی سوچ سے بھی بڑھ کر ہے، اس کلب کے ساتھ چیمپیئن بننا ناقابل بیان ہے۔ یہ میرے کھلاڑیوں کی انتہائی شاندار کامیابی ہے، پچھلے تین سالوں میں انھوں نے غیرمعمولی محنت کا مظاہرہ کیا ہے، میرے لیے ان کی کوچنگ کرنا باعث مسرت ہے۔ جہاں تک میرے کوچنگ سٹاف کا تعلق ہے، میں اس سے بڑھ کر ان پر فخر نہیں کر سکتا جو انھوں پچھلے کئی سالوں میں اس کلب کے لیے کیا ہے، جو تمام لیورپول والوں نے اس کے لیے کیا ہے۔ یہ واقعتاً جوش و جذبے سے بھرپور سفر ہے، اول دن سے جب میں اس کلب میں آیا، اور اچھی بات یہ ہے کہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔

رافا بینیٹز:

لیورپول فٹبال کلب کو مبارک ہو، تیس سال بعد خواب پورا ہوا! میں تمام ‘سرخوں’ (Reds) کے لیے بے انتہا خوش ہوں! "تم کبھی اکیلے نہیں چلے چلو گے” (You will never walk alone)
فرنینڈو ٹورس:

تمام لیورپول فٹبال کلب والوں کو پریمیئر لیگ جیتنے پر بہت مبارک ہو۔ ناقابل یقین ٹیم، شاندار مینیجر، عظیم سٹاف، لیکن سب سے بڑھ کر میری مخلصانہ مبارک باد لیورپول کلب کے ہر ایک چاہنے والے کو پہنچے۔ تم سب نے بہت طویل انتظار کیا اور آخرکار یہ ٹرافی تمھاری ہوئی۔ تم حقیقتاً مستحق ہو۔

سٹیون جیرارڈ:

تمام لیورپول فٹبال کلب والوں کو پریمیئر لیگ جیتنے پر مبارک ہو۔ بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل لاجواب ٹیم کی ناقابل یقین کامیابی۔ جس کی قیادت کی جانے مانے مینیجر اور کوچنگ ٹیم نے، فین وے سپورٹس گروپ کا بھی خصوصی ذکر جس نے (کلب کو) سہارا دیا۔ اور آخر میں سب سے زیادہ قابل ذکر مداح جنھوں نے تیس سال انتظار کیا ہے۔ چلو موج مستی شروع کرو۔
لیبرون جیمز: (امریکی باسکٹ بال کھلاڑی)

پریمیئر لیگ چیمپیئنز!!!!!!!!!!!!!!! لیٹس گو ۔ ۔ ۔
پیپ گارڈیولا: (مانچسٹر سٹی مینیجر)

لیورپول نے ہر مقابلہ اس طرح کیا جیسے یہ ان کے پاس آخری موقع تھا ۔ ۔ ۔ لیورپول کی مستقل مزاجی پورے سیزن میں لاجواب رہی۔ ہم نے سیزن کے شروع میں پوائنٹس گنوائے، اور لیورپول نے نہیں گنوائے ۔ ۔ ۔

مانچسٹر سٹی: (ٹوئٹر پیج)

لیورپول فٹبال کلب کو پریمیئر لیگ جیتنے پر مبارک ہو۔

بروشیا ڈورٹمنڈ: (ٹوئٹر پیج)

لیورپول فٹبال کلب کو پریمیئر لیگ جیتنے پر مبارک ہو! مبارک کلوپو!

سیموئل ایل جیکسن: (ہالی وڈ اداکار)

لیورپووووووووووووووول !! !! !! !! !! !! !! !! !! !! !! !!

سر ویون رچرڈز: (ویسٹ انڈین کرکٹ بلے باز)

لیورپول فٹبال کلب مبارک باد۔ ہم #انگلستان_کے_چیمپیئنز ہیں! کیا لاجواب ٹیم ہے۔۔

ریو فرڈینینڈ:

لیورپول فٹبال کلب مبارکباد۔۔۔ پریمیئر لیگ چیمپیئنز۔ اکتیس میں سے اٹھائیس مقابلے جیتنا۔۔۔ تعریف کے علاوہ کہنے کو کچھ نہیں ہے۔۔۔ مکمل طور پر مستحق ہو۔۔۔ مسلسل آرزو تھی۔۔۔ خاص طور پر آخری سیزن کی وجہ سے جب بہترین کھیل کے باوجود ہار گئے تھے۔ اعصابی لحاظ سے مضبوط!

برینڈن راجرز:

براہ راست شاہد ہونے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں، یہ ان کی تاریخ کا ایک ناقابل یقین لمحہ ہے۔ جب میں وہاں تھا تو (پریمیئر لیگ چیمپیئن) بننے کی آرزو محسوس کی تھی۔ میں جرگن کے لیے خوش ہوں، خصوصی طور پر اس لیے کہ آخری چند سالوں میں (چیمپیئن شپ کے لیے) مقابلہ بہت سخت گیا تھا۔

لیورپول ٹرافی کیبنٹ

انیسواں لیگ ٹائٹل جیتنے کے بعد لیورپول انگلش فٹبال تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیم بن گئی ہے۔ اس کےحصے پر اڑتالیس ٹرافیاں آ گئی ہیں، جبکہ اس کے قریب ترین حریف مانچسٹر یونائیٹڈ کے حصے پر پینتالیس ٹرافیاں ہیں۔

مقابلہ تعداد

فرسٹ ڈویژن لیگ / پریمیئر لیگ 19

ایف اے کپ 7

لیگ کپ 8

یورپیئن کپ / چیمپیئنز لیگ 6

یوئیفا کپ / یورپا لیگ 3

یورپیئن سپر کپ 4

فیفا کلب ورلڈ کپ 1

حاصل جمع 48

لیورپول کا میدان – اینفیلڈ

اینفلیڈ لیورپول شہر کے مضافات میں واقع ‘اینفیلڈ’ نامی علاقے میں لیورپول فٹبال کلب کا ہوم گراؤنڈ ہے۔ اس میں 53،394 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، جس کی وجہ سے یہ انگلستان کا ساتواں بڑا فٹبال میدان قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر 1884ء میں ہوئی اور اپنے قیام سے لے کر 1891ء تک یہ ایورٹن فٹبال کلب کا ہوم گراؤنڈ رہا۔ اینفیلڈ کے مالک اور کلب کی انتظامیہ مابین ہونے والے تنازعے کی بنا پر ایورٹن ‘گوڈیسن پارک’ منتقل ہو گیا اور لیورپول فٹبال کلب کے نام سے ایک نئے کلب کی بناید رکھی گئی جس کا ہوم گراؤنڈ اینفیلڈ قرار پایا۔

اینفیلڈ کے چار اسٹینڈز ہیں: ‘سپیون کاپ’، دا مین اسٹینڈ، دا سر کینی ڈالگلش اسٹینڈ اور دا اینفیلڈ روڈ اینڈ۔ 1952ء میں لیورپول اور ‘وولوَرہیمپٹن وینڈرَرز’ کے درمیان ہونے والے مقابلے میں سب سے زیادہ 61،905 افراد کی حاضری کا ریکارڈ بنا جو ابھی تک قائم ہے۔ 1994ء میں میدان کو مکمل طور پر قابل بیٹھک بنا دیا گیا، اس کا سبب ‘ہلزبورو سانحہ’ پر شائع ہونے والی ٹیلر رپورٹ تھی جس کی وجہ سے میدان میں بیٹھنے کی گنجائش کم ہو گئی۔ میدان کے دو دروازوں کے نام اس کے سابقہ عظیم مینیجروں کے نام پر ہیں؛ یعنی بِل شینکلی اور باب پیسلی۔ دونوں مینیجروں کے مجسمے بھی دروازے کے باہر ایستادہ ہیں: شینکلی مجسمے کی نقاب کشائی 1997ء میں کاپ اسٹینڈ کے پاس ہوئی، جبکہ پیسلی کی 2020ء میں دا مین اسٹینڈ کے قریب ہوئی۔ مذکورہ میدان ‘لیورپول لائم اسٹریٹ ریلوے اسٹیشن’ سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ 2002ء میں ایک دفعہ تجویز آئی کہ اینفیلڈ کی جگہ قریبی ‘سٹینلے پارک’ میں نئے میدان کی تعمیر کی جائے اور اسے نیا گھر بنایا جائے، لیکن 2010ء میں جب فین وے اسپورٹس گروپ نے کلب کو خریدا تو اس نے واضح کر دیا کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ اگر جگہ تنگ ہوئی تو ہم اسی جگہ کو کشادہ کریں گے۔ اس مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے دسمبر 2014ء میں دا مین اسٹینڈ کی توسیع شروع ہوئی جو ستمبر 2016ء میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ اس توسیع سے دا مین اسٹینڈ یورپیئن فٹبال میں بیٹھک کے حساب سے ایک بڑا اسٹینڈ بن گیا ہے اور بیٹھنے والوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 54،074 ہو گئی ہے۔

نامور کھلاڑیوں اور مینیجروں کے تاثرات

کرسچیانو رونالڈو:

اینفیلڈ اسٹیڈیم پریمیئر لیگ کے میدانوں میں سب سے زیادہ مرعوب کر دینے والا ہے جہاں میں اب تک گیا ہوں۔

جیجی بُفون:

اینفیلڈ سے بہتر فضا کا تجربہ مجھے ابھی تک کسی جگہ کا نہیں ہوا۔

جان ٹیری:

مجھے اس سے قبل ایسا تجربہ نہیں ہوا اور میرا نہیں خیال کہ (مستقبل میں) کبھی ہو گا۔ یہ (اینفیلڈ) بہترین فضا لیے ہوئے ہے جہاں تک میں کھیلا ہوں۔

پیپ گارڈیولا:

اس (اینفیلڈ) میں ایسا کچھ ہے جو آپ کو دنیا کے کسی اور میدان میں نہیں ملے گا۔

تھیری ہنری:

مجھے اس فضا سے پیار ہے۔ ناقابل یقین۔ میں بہت سے میدانوں میں کھیلا ہوں لیکن میرے خیال میں لیورپول جیسا کوئی بھی نہیں ہے۔

کارلو اینسلوٹی:

یہ (اینٖفیلڈ) ایک شاندار میدان ہے۔ دنیا کے بہترین میدانوں میں سے ایک۔ ہر کوئی مداحوں کے جوش و سے بخوبی واقف ہے۔

میکل آرٹیٹا:

اینفیلڈ پریمیئر لیگ کا واحد میدان تھا جہاں جا کر میں دم بخود رہ جاتا تھا۔

فابیو کپیلو:

اینفیلڈ کی شاندار فضا لیورپول کے کھلاڑیوں کے لیے برقی جھٹکے کی مانند تھی۔ لگتا تھا کہ اب انھیں روکنا ناممکن ہے۔

لیورپول کا ترانہ – "تم کبھی اکیلے نہیں چلے چلو گے”

"تم کبھی اکیلے نہیں چلے چلو گے” دنیائے فٹبال کے مشہور ترین ترانوں میں سے ایک ہے۔ اسے بروشیا ڈورٹمنڈ اور سیلٹک سمیت کئی دوسرے کلبوں نے بھی اپنا رکھا ہے۔ ترانے کی مقبولیت کا اندازا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اینفیلڈ میں شروع ہونے والے ہر مقابلے سے پہلے یہ سنا اور گایا جاتا ہے۔ پھر یہ صرف اینفیلڈ تک محدود نہیں ہے بلکہ لیورپول جہاں بھی کھیلنے کے لیے جاتا ہے؛ چاہے یورپ ہو یا کوئی دوسرا براعظم یہ ترانہ اس کے ساتھ جاتا ہے۔ اس ترانے کی وابستگی لیورپول کلب اور شہر کے ساتھ 1960ء کی دہائی سے ہے۔اصل میں یہ گانا ‘آسکر ہیمرسٹائن دوم’ کا لکھا ہوا تھا اور ‘رچرڈ راجرز’ نے اس کی موسیقی دی تھی۔ 1945ء میں پہلی بار یہ امریکہ میں نشر ہوا۔ گانے کو بعد میں بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں گایا (یعنی اس کے کور بنائے)، جن میں سے برطانیہ میں کامیاب ترین ‘گیری اور پیس میکرز’ کا 1963ء میں نشر کیے جانے والا ہوا۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی گانوں کی فہرست میں یہ چار ہفتوں تک نمبر ایک پر رہا۔

لیورپول نے اس گانے کو اپنا ترانہ کب بنایا؟ اس کے متعلق مختلف آراء ہیں، سب سے قابل قبول رائے یہ ہے کہ اسی سال (1963ء میں) سیزن شروع ہونے سے پہلے جب کلب بیرونی دورے پر تھا تو اس موقع پر ‘گیری مارسڈن’ (مرکزی گائیک- جس کے نام سے کور نشر ہوا) نے گانے کی ایک کاپی کلب مینیجر بِل شینکلی کے حوالے کی۔ بعد ازاں کھلاڑی ‘ٹومی سمتھ’ نے انکشاف کیا کہ شینکلی گانے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ کلب کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں نے پیچھے لیورپول یہ خبر پہنچا دی کہ "تم کبھی اکیلے نہیں چلے چلو گے” اب سے کلب کا نیا ترانہ ہو گا اور پھر یہاں سے معاملہ آگے بڑھا۔ مذکورہ گانے کا باقاعدہ ترانے بننے کا ثبوت شینکلی نے 1965ء میں بی بی سی کے ایک ریڈیو شو میں دیا جب اس نے اس گانے کا انتخاب کیا۔ جس کے فوری بعد ہونے والے ایف اے کپ فائنل میں اسے اسٹیڈز میں گاتے سنا اور ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے لیورپول شائقین کی جانب سے گائے جانے والے ترانے نے الگ پہچان بنا لی۔ مجمع کی صورت میں گانے کا سب سے بڑا مظاہرہ 2013ء میں ہوا جب اسی طرح سیزن شروع ہونے سے پہلے لیورپول آسٹریلیا کے دورے پر تھا تو مشہور زمانہ ‘میلبرن کرکٹ گراؤنڈ’ میں پچانوے ہزار تماشائیوں نے ہم آواز ہو کر اسے گایا۔

1989ء کے ہلزبورو سانحے، جس میں چھیانوے ‘سرخے’ (Reds) جان سے گئے تھے، کے بعد اس ترانے کو نئے مفہوم اور علامت کے ساتھ پڑھا جانے لگا جس میں مظلوم مرنے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار ہوتا اور انصاف کے لیے دہائی ہوتی۔ 2013ء میں انگلش کورٹ کے فیصلے تک جس میں لیورپول شائقین کو بے گناہ قرار دیا گیا اور پولیس اہلکاروں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا، یعنی چوبیس پچیس سال تک ترانے کی شاعری اور مرکزی خیال غم و غصہ کی عکاسی کرتا رہا۔ آج "تم کبھی اکیلے نہیں چلے چلو گے” (You’ll Never Walk Alone) والا مصرعہ لیورپول کے آفیشل نشان کے بالائی حصہ پر لکھا ہوا نظر آتا ہے جو واضح طور پر ‘شینکلی دروازوں’ کے نمونوں سے ماخوذ ہے۔

Related posts

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے